فتنۂ رافضیت کا اجمالی جائزہ
انسانی تاریخ ، ہمیشہ دو متضاد دھاروں کے بیچ بہتی آئی ہے—ایک وہ قافلہ جو حق کی شمع تھامے اندھیروں میں چراغ روشن کرتا رہا اور دوسرا وہ گروہ جو باطل کے سایوں میں سازشوں کی فصلیں اگاتا رہا۔ صدیوں سے حق و باطل کی معرکہ آرائی میں ایک ایسا گروہ بھی پروان چڑھتا رہا ہے جو اسلام کے پردے میں چھپ کر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں مصروف رہا، یہ وہ لوگ ہیں جن کی زبانیں کلمہ تو پڑھتی ہیں، مگر ان کے دلوں میں صحابۂ کرام کے خلاف، نفرت کی چنگاریاں سلگتی ہیں اور ان کی تقریریں امتِ مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
جب خیالات پروان چڑھتے ہیں، تو اختلاف اس کی فطری آغوش سے جنم لیتا ہے، اختلاف اگر علم و تحقیق کے چراغ سے روشن ہو، تو نہ صرف ذہنوں کی بند کھڑکیاں کھولتا ہے بلکہ قلوب و اذہان کو حقیقت کی روشنی سے منور بھی کرتا ہے۔
یہی اختلاف اہلِ حق کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے عقائدِ حقہ کو کتاب و سنت اور اجماع امت سے مزین کریں اور باطل کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔
زیرِ نظر تحریر اسی فکری جہاد کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے ۔ یہ محض رسمی مضمون نہیں، بلکہ ایک فکری ہتھیار ہے جو ان باطل افکار کے مقابل سینہ سپر ہے جو دینِ مبین کے بظاہر ہم نوا ، مگر حقیقت میں اس کے دشمن ہیں ۔
یہ مضمون ایک ایسے مسئلے کا اجمالی جائزہ پیش کرتا ہے جو علمی حلقوں ہی میں نہیں ، بلکہ پوری امت کے اعتقادی شعور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں ہم روافض کے ان باطل عقائد و نظریات کا جائزہ لیں گے جو تاریخِ اسلام کے اوراق پر سیاہ دھبے کی مانند ثبت ہیں اور دلائل کی روشنی میں حق و باطل کو میزان انصاف میں تولیں گے اور دیکھیں گے کہ صداقت کی روشنی کس طرف زیادہ تاباں ہے۔
"روافض" در اصل " رافضہ" کی جمع ہے۔ اس کا مادۂ اشتقاق ر-ف-ض ہے جس کا مفہوم لغت عرب کے مطابق کسی چیز کو ترک کرنا اور انکار کرنا۔ (لسان العرب)
اسی مناسبت سے " رافضی " اس شخص یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو اپنے امام و قائد کو چھوڑ دے اور اس کی قیادت و امامت سے منہ موڑ لے ۔ (القاموس المحیط)
علم کلام کے درخشاں چراغ اور عقائدِ اہلِ سنت کے مایۂ ناز امین امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللّٰہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب (مقالات الاسلامیین جزء اول ص٧٨ ) میں رقم طراز ہیں:
"و إنما سموا رافضة لرفضهم إمامة أبي بكر و عمر"
ترجمہ: انہیں " رافضی" اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی امامت و خلافت کا انکار کیا۔
بعض جلیل القدر اہلِ علم نے اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی کہ رافضی وہ ہیں جنہوں نے دین کی بنیادوں کو چھوڑ دیا اور ایمان کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کی جسارت کی۔
تاریخ کے باب میں ایک روایت یہ بھی محفوظ ہے جو رافضیت کی بنیاد کا عکاس ہے :
جب حضرت زید بن علی بن حسین نے اپنے وقت کے بعض "شیعہ" افراد کو حضراتِ شیخین کریمین، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر سب و شتم سے منع فرمایا تو وہ ان کی حلقۂ اطاعت سے نکل گئے، حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے ایک تاریخی سوال فرمایا : " رفضتموني؟" کیا تم لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا ؟ "قالوا نعم" تو انہوں نے جواباً کہا ہاں ہم نے آپ کو چھوڑ دیا۔
یہی وہ لمحۂ انکار تھا جس نے انہیں "رافضی" کے لقب سے موسوم کر دیا۔
یوں "رافضی" محض ایک لفظ نہیں رہا، بلکہ ایک فکری شناخت بن گیا، جو وفا سے گریز اور اعتدال سے انحراف کی تصویر پیش کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رافضیت کا چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے ۔
ائمۂ اہلِ سنت و جماعت کے مسلمہ اصول اور معتبر فقہی کتب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ جو شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابۂ کرام کی خلافت کا انکار کرے، یا ان عظیم المرتبت صحابہ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کا مرتکب ہو، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
چنانچہ اسی اصول کو فقہِ حنفی کی مستند کتاب (فتاویٰ بزّازیہ علی ھامش فتاویٰ ہندیہ ج ٦ ص ٣١٨ ) میں واضح طور پر یوں بیان کیا گیا ہے:
"من أنكر خلافة أبي بكر رضي الله تعالى عنه فهو كافر في الصحيح، ومن أنكر خلافة عمر رضي الله تعالى عنه فهو كافر في الأصح"
ترجمہ: جو شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا انکار کرے وہ صحیح قول کے مطابق کافر ہے، اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا منکر ہو وہ زیادہ صحیح قول کے مطابق کافر ہے۔
(فتاویٰ بزازیہ على هامش فتاویٰ ہندیہ ج ٦ ص ٣١٩ ) ہی میں روافض کی حقیقی فکری حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا:
"الرافضي إن كان يسب الشيخين و يلعنهما والعياذ بالله تعالى، فهو كافر، وإن كان يفضل علياً كرّم الله وجهه عليهما، فهو مبتدع"
ترجمہ: اگر رافضی، حضراتِ شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو سب و شتم کا نشانہ بناے یا ان پر لعنت کرے —نعوذ باللہ—تو وہ کافر ہے۔ اور اگر وہ محض حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شیخین پر فضیلت دے، تو وہ بدعتی ہے۔
ان جلی کلمات اور قطعی تصریحات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جو رافضی حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی کرے، ان کی خلافتِ راشدہ کا انکار کرے، یا انہیں لعن و طعن کا نشانہ بنائے، وہ محض راہِ گمراہی پر نہیں ، بلکہ کفر کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا ہے ۔ ایسے شخص کا درحقیقت اسلام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا، اور وہ دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے ۔
آج کے دور میں روافض محض "تبرائی" کی سطحی نسبت تک محدود نہیں، بلکہ ان کی اکثریت ایسے صریح کفریہ عقائد پر ایمان رکھتی ہے، جو نہ صرف دینی اصولوں سے متصادم ہیں بلکہ امت کے اجماعی عقائد کے بھی خلاف ہیں ۔ یہ گروہ محض شخصی انحرافات یا نظری اختلافات ہی کا حامل نہیں، بلکہ اجماعِ امت کے مطابق دائرۂ اسلام سے خارج اور کفر و ارتداد کے گڑھے میں ہے ۔
علماے راسخین اور فقہاے محققین نے نہ صرف ان کے کفر پر فتویٰ دیا، بلکہ یہاں تک فرمایا کہ جو شخص ان کے کفر میں شک کرے یا انہیں مسلمان جانے، وہ خود کافر ہے۔
روافض کے باطل افکار کا دامن ایسے گمراہ کن عقائد سے لبریز ہے، جن میں بعض نظریات نہ صرف دینِ اسلام کی قطعی اور اجماعی تعلیمات کی صریح تکذیب پر مبنی ہیں، بلکہ ضروریاتِ دین کے کھلے انکار کی طرف بھی لے جاتے ہیں۔
ان فاسد خیالات میں دو ایسے بھی کفریہ عقائد شامل ہیں جو روافض کے ہر فرد —خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، عوام میں سے ہو یا خواص میں سے— سب کے دل و دماغ میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہیں جیسے زہر ، رگ و پے میں سرایت کرتا ہے:
عقیدۂ اول: تحریفِ قرآن
روافض کا سب سے ہولناک اور کھلا ہوا کفریہ عقیدہ یہ ہے کہ وہ قرآن عظیم کو ناقص، محرف اور انسانی تصرفات کا شکار سمجھتے ہیں—نعوذ باللہ!
کوئی کہتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بعض سورتیں حذف کر دیں ، کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بعض آیات اہلِ بیت کے فضائل پر مشتمل تھیں جنہیں صحابہ نے چھپا دیا اور کچھ مکار احتمال کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ " ممکن ہے کچھ آیات حذف کر دی گئی ہوں " گویا کفر کو احتمال کا لبادہ پہنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عقیدہ نہ صرف ضلالت ہے بلکہ قطعی کفر ہے۔ کیونکہ یہ براہِ راست قرآن مجید کی نصِ صریح کا انکار ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
" اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ "
(سورۃ الحجر: 9)
ترجمہ: بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ضامن ہیں۔"
تفسیرِ مدارک میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:
"وهو حافظه في كل وقت من الزيادة والنقصان والتحريف والتبديل"
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں قرآن مجید کو زیادتی ، کمی ، تحریف اور تبدیل سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہی مفہوم تفسیرِ بیضاوی، جلالین اور دیگر مستند تفاسیر میں بھی موجود ہے۔
امام قاضی عیاض رحمہ اللہ —جن کی کتاب " الشفاء" کو عقائدِ اسلام کا گنجینہ کہا جاتا ہے— تحریر فرماتے ہیں:
"و كذالك و من انكر القرآن أو حرفا منه أو غير شيئا منه أو زاد فيه" (شفا شريف جزء ثانى ص ٢٨٩ دار الكتاب العلمية بيروت)
ترجمہ: جو شخص قرآن عظیم یا اس کے کسی حرف کا انکار کرے، اس میں کچھ تبدیل کرے یا کچھ اضافہ کرے، وہ بالاتفاق کافر ہے۔
پس ثابت ہوا کہ قرآن میں تحریف، زیادتی، نقص یا کسی قسم کی تبدیلی کا قول یا اس کا احتمال ماننا ، نہ صرف علم و عقل کی بری موت ہے، بلکہ ایمان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔
عقیدۂ دوم: افضلیتِ غیرِ نبی بر انبیا علیہم السلام
روافض کے کفری عقائد میں ایک اور زہر آلود عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمیع انبیاے کرام علیہم والسلام سے افضل جانتے ہیں۔
یہ عقیدہ اس قدر مہلک اور ضرر رساں ہے کہ اگر ایمان ایک قلعہ ہو، تو یہ نظریہ اس کی دیواروں کو بنیاد سے منہدم کر دیتا ہے۔
امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ:
"جو شخص کسی غیر نبی کو نبی سے افضل جانے ، وہ کافر اور بے دین ہے-"
روافض کا یہ عقیدہ نہ صرف انبیاے کرام کی توہین ہے بلکہ نبوت کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ" الشفا " میں فرماتے ہیں:
"و كذالك نقطع بتكفير غلاة الرافضة في قولهم إن الأئمة افضل من الأنبياء" (شفا شريف جزء ثانى ص ٢٩٠ دار الكتاب العلمية بيروت)
ترجمہ: ہم ان غالی رافضیوں کو قطعی طور پر کافر مانتے ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ، انبیا سے افضل ہیں۔
اسی عقیدے کی وضاحت (ارشاد الساری شرح صحیح البخاری، جلد اول، صفحہ ۱۷۸) میں یوں کی گئی :
"النبي أفضل من الولي و هو أمر مقطوع به، و القائل بخلافه كافر، لأنه معلوم من الشرع بالضرورة"
ترجمہ: نبی، ولی سے افضل ہے اور یہ امر، قطعی و یقینی ہے، اور جو اس کے خلاف عقیدہ رکھے، وہ کافر ہے کیونکہ یہ مسئلہ دین کی ضروریات سے ہے۔
ان دو عظیم حوالوں سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو شخص کسی ولی ، امام یا مجتہد کو نبی سے افضل جانے ، وہ نہ صرف حق سے پھرا ہوا ہے بلکہ ایمان کی حدوں سے کوسوں دور جا چکا ہے ۔
روافض اپنے مجتہدین کے اقوال کو وحی کی مانند سند مانتے ہیں ، ان کی ہر بات کو دین کا معیار قرار دیتے ہیں، خواہ وہ قرآن کے خلاف ہو ، سنت کے برعکس ہو یا اجماعِ امت کی صریح نفی کرتی ہو ۔
اگر بالفرض کوئی رافضی ان کفریہ عقائد سے واقف نہ بھی ہو، تب بھی وہ اپنے مجتہدین کی اطاعت کا دم بھرتا ہے اور ان کے اقوال کو دین کا حصہ مانتا ہے۔ اور اگر کوئی رافضی ان فتاویٰ کا انکار بھی کرے، تب بھی وہ اپنے مجتہدین کو دین کا پیشوا، عالم و فقیہ ضرور تسلیم کرتا ہے۔
—کافر کو مسلمان ماننے والا بھی کافر—
یاد رکھیں! یہ عقیدہ کہ "جو کسی کافر کو کافر نہ مانے، وہ خود بھی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے" ،
فقہ اسلامی کا آہنی اصول ہے جسے جلیل القدر فقہا نے بارہا مصرح فرمایا ہے ۔
فتاویٰ بزازیہ، درر و غرر، فتاوی خیریہ، درمختار اور مجمع الانہر جیسی معتبر کتب میں صاف لکھا ہے:
"من شک فی عذابه و كفره کفر" (در مختار، كتاب الجهاد ج ٤ ص ٢٣٢ المكتبة الشاملة)
ترجمہ: جو کسی کافر کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ خود بھی کافر ہے۔
یہ اصول محض فتویٰ نہیں بلکہ دین کی وہ خاردار باڑ ہے جو اہلِ حق کو اہلِ باطل سے جدا کرتی ہے۔
اجماعی فیصلہ ، شرعی حکم اور عقیدۂ نجات
ان تمام دلائل ، نصوص اور اجماعی تصریحات کی روشنی میں یہ بات چٹان سے زیادہ مضبوط اور آسمان سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ:
روافض ، تبرائیہ ، جو تحریف قرآن اور غیر نبی کو نبی سے افضل ماننے جیسے کفریہ عقائد کے حامل ہیں ، علی الاطلاق کافر و مرتد ہیں اور جو شخص ان کے ان کفریہ اقوال و نظریات سے باخبر ہونے کے باوجود ان کو مسلمان جانے ، یا ان کے کفر میں شک کرے ، وہ بھی بلا شک و شبہ دائرۂ ایمان سے خارج ہے۔
ایمان والوں کے لیے لمحۂ فکریہ
اے اہلِ سنت! اے غلامانِ نبیِ رحمت !
یہ وقت تذبذب کا نہیں بلکہ دین حق کے تحفظ کا ہے۔
لہٰذا تم پر فرضِ عین ہے کہ اس حکمِ شرعی کو کانِ دل سے سنو ، دل و جان سے تسلیم کرو، اور اس پر ثبات قدم سے عمل کرو، تاکہ تمہاری شناخت ایک سچے پکے اور باوفا سنی کی حیثیت سے ہو۔
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
کہ بد مذہبوں کو سدھارا کروں میں
تحریر : رضی الله خان عليمى مصباحی
۹ محرم الحرام ١٤٤٧ھ
5 جولائی 2025ء
نیچے واٹس ایپ ، فیس بک اور ٹویٹر کا بٹن دیا گیا ہے ، ثواب کی نیت سے شیئر ضرور کریں۔

0 تبصرے
السلام علیکم
براے کرم غلط کمینٹ نہ کریں
شکریہ