Advertisement

کیا ایسی عورت جسے شوہر نے طلاق نہیں دی، لیکن باپ نے زبردستی اس کا دوسرا نکاح کرا دیا ہو، پہلے شوہر کا نکاح ختم ہو جاتا ہے یا باقی رہتا ہے؟

کیا ایسی عورت جسے شوہر نے طلاق نہیں دی، لیکن باپ نے زبردستی اس کا دوسرا نکاح کرا دیا ہو، پہلے شوہر کا نکاح ختم ہو جاتا ہے یا باقی رہتا ہے؟


مسئلہ: 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وہ مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی عورت بعد نکاح تقریبا چھ سات سال زید کے گھر میں رہی، ایک لڑکی بھی ہوئی، بعد ازاں وہ عورت پہلے باپ کے گھر گئی، جب دوبارہ زید اس کو لیوانے گیا تو اس کے باپ نے حیلہ بہانہ کر کے اسے روک لیا، چند دنوں کے بعد کسی دوسری جگہ اس کا نکاح کر دیا، زید نے حسب ہمت کوشش کی مگر ناکام رہا وہ عورت اپنے فرضی خاوند کے یہاں تخمینا دو سال رہی، ایک لڑکا بھی پیدا ہوا ، پھر اس کا مصنوعی شوہر مر گیا ، اب وہ عورت اپنے باپ کے گھر موجود ہے، تو سوال یہ ہے کہ زید کا حق زوجیت کیا اس عورت سے منقطع ہو گیا یا باقی رہا؟

الجواب:

جب اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا تو ظاہر یہی ہے کہ شوہر اول نے طلاق دے دی ہوگی، ورنہ بغیر طلاق لیے دوسری جگہ کیوں کر نکاح کر سکتی ہے اور اگر واقع میں زید نے طلاق نہ دی ہو تو وہ بدستور اسی کی زوجہ ہے اور جان بوجھ کر جو اس کے دوسرے نکاح میں شریک ہوا سخت کبیرہ کا مرتکب ہوا اسے چاہیے کہ تجدید اسلام و تجدید نکاح کرے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔

حوالہ:
فتاوی امجدیہ جلد دوم، ص: ۱۰، مطبوعہ: کتب خانہ امجدیہ دہلی۔


ایڈیٹر: مولانا محمد مبین رضوی مصباحی صاحب

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے