قربانی کے فضائل، مسائل اور احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں
قربانی اسلام کا ایک عظیم شعار، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ عیدالاضحیٰ کے مبارک ایام میں مسلمان اللہ کی بارگاہ میں جانور قربان کرکے اپنے جذبۂ اطاعت و بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ، ایثار اور سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے کا عظیم عمل ہے۔
قربانی کا مفہوم:
قربانی عربی لفظ "قرب" سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا، شریعت میں قربانی سے مراد عیدالاضحیٰ کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مخصوص جانور کو مخصوص طریقے سے ذبح کرنا۔
قربانی کی مشروعیت:
قربانی قرآن، حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ، پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ (سورۂ الکوثر: 2)
ایک اور مقام پر فرمایا: لَن يَّنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِن يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنكُمْ، اللہ تعالیٰ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۂ الحج: 37)
قربانی کی تاریخ:
قربانی کی اصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے عظیم واقعہ سے جڑی ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا تو دونوں نے کمالِ اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ قرآنِ پاک میں ہے: يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ، اباجان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ (سورۂ الصافات: 102)
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے مینڈھا بھیج دیا اور اس عظیم سنت کو قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا۔
قربانی کے فضائل:
1۔اللہ کے نزدیک محبوب عمل
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یوم النحر میں ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے سے ۔زیادہ محبوب نہیں۔ (ترمذی)
2۔ہر بال کے بدلے نیکی
حدیث شریف میں ہے: قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے۔ (ابن ماجہ)
3۔ سنت ابراہیمی پر عمل
قربانی ادا کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنا ہے۔
4۔ تقوی اور اخلاص کا اظہار
قربانی انسان کے اندر اللہ کے لیے جان و مال قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
5۔ امت مسلمہ میں اتحاد
عیدالاضحیٰ کے دن مسلمان اجتماعی طور پر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جس سے اخوت و محبت بڑھتی ہے۔
قربانی کس پر واجب ہے؟
ہر اس شخص پر قربانی واجب ہے جو مسلمان ہو عاقل و بالغ ہو مقیم ہو (مسافر نہ ہو) صاحبِ نصاب ہو
نصاب کیا ہے؟
جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کا مال موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کا وقت:
10 ذوالحجہ کی نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک رہتا ہے، دیہات میں جہاں نمازِ عید نہیں ہوتی وہاں صبحِ صادق کے بعد قربانی جائز ہے۔
قربانی کے جانور:
جن جانوروں کی قربانی جائز ہے اونٹ گائے، بھینس، بکری، بھیڑ، دنبہ
جانور کی عمر:
بکری کم از کم ایک سال، بھیڑ / دنبہ: چھ ماہ کا اگر ایک سال کا معلوم ہو گائے/ بھینس: دو سال اونٹ پانچ سال
قربانی میں حصے:
بکری یا بھیڑ صرف ایک شخص کی طرف سے گائے، بھینس اور اونٹ میں سات حصے تک ہوسکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ تمام شریکوں کی نیت قربانی یا ثواب کی ہو۔
عیب دار جانور کا حکم:
ایسا جانور قربانی کے لیے جائز نہیں کانا، لنگڑا، بہت بیمار، انتہائی کمزور، جس کا کان یا دم زیادہ کٹا ہو
قربانی کا مسنون طریقہ:
جانور کو نرمی سے لٹائیں، قبلہ رخ کریں، یہ دعا پڑھیں: إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حنیفا وما انا من المشرکین، اور ذبح کرتے وقت پڑھیں: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ
قربانی کا گوشت تقسیم کرنا:
مستحب یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے اور تیسرا غریبوں اور مسکینوں کے لیے۔
قربانی کی کھال کا حکم:
قربانی کی کھال صدقہ کرنا افضل ہے، کھال کو بعینہٖ اپنے ذاتی استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے، لیکن قصائی کو مزدوری کے طور پر دینا جائز نہیں۔
چند اہم مسائل:
ایصالِ ثواب کے لیے میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ اگر قرض ادا کرنے کے بعد نصاب باقی بچتا ہو تو قربانی واجب ہوگی۔ شرعی مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ جس شخص نے قربانی کرنی ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ یکم ذوالحجہ سے قربانی تک بال اور ناخن نہ کاٹے۔
قربانی کے آداب:
اخلاص کے ساتھ قربانی کریں، ریاکاری اور نمود و نمائش سے بچیں، جانور کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کریں، چھری تیز رکھیں تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
موجودہ دور میں ہماری کوتاہیاں:
آج قربانی عبادت کے بجائے اکثر دکھاوے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ بعض لوگ سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز ڈال کر ریاکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ قربانی کا اصل مقصد تقویٰ اور اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلٰكِن يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنكُمْ۔ اللہ تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
قربانی کا اصل پیغام:
قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں، اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا پر قربان کریں، اخلاص اور تقویٰ اختیار کریں، غریبوں اور محتاجوں کا خیال رکھیں، قربانی ایک عظیم عبادت اور اسلامی شعار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عبادت کو سنت کے مطابق، خلوصِ نیت اور تقویٰ کے ساتھ ادا کریں، قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور غرور کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طریقے سے قربانی ادا کرنے اور اس کی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
✍️ کرامت اللہ خان نعیمی
استاذ جامعہ نعیمیہ دیوان بازار مرادآباد یوپی الہند
7؍ ذی الحجہ 1447ھ بروز دوشنبہ
25/5/2026
نیچے واٹس ایپ ، فیس بک اور ٹویٹر کا بٹن دیا گیا ہے ، ثواب کی نیت سے شیئر ضرور کریں۔

0 تبصرے
السلام علیکم
براے کرم غلط کمینٹ نہ کریں
شکریہ